اللہ کا اپنے دین کی مدد کرنا اور غصبِ خلافت پر خاموش رہنے کی وجہ کیا ہے؟

سوال:

نہج البلاغہ کے خطبہ 146 میں امیر المومنین علیہ السلام، عمر بن خطاب کو ایک مشورہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: اس معاملے میں مسلمانوں کی فتح یا شکست کی وجہ سپاہیوں کی تعداد کے زیادہ یا کم ہونے سے مربوط نہیں ہے، یہ خدا کا دین ہے جسے خدا نے فاتح بنایا ہے… خدا نے ہم سے فتح کا وعدہ کیا تھا اور وہ اپنا وعدہ پورا کرتا ہے۔

اس بظاہر اسلامی فوج کی ناکامی سے بڑھ کر خلافت کو غصب کیے جانے کا خطرہ بڑا نہیں تھا جس کا مرکزی سپہ سالار اور رہنما وہ شخص ہے جو اسلام کے بنیادی مسائل سے بھی واقف نہیں اور اس بظاہر اسلامی فوج کا برتاؤ بھی اسلامی نہیں تھا جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں خدا اپنے دین کی حمایت کرتا ہے لیکن خلافت پر قبضے کی صورت میں حمایت نہیں کرتا۔

کیا یہ مذہب سچا مذہب ہے جس کی خدا نے مدد کی ہے؟ 

جواب

آیت اللہ سید علی حسینی میلانی مدظلہ

باسمہ تعالیٰ

السلام علیکم

اس سوال کا جواب تفصیلی ہے لیکن مختصراً عرض ہے کہ غصبِ خلافت کے معاملے میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ماموریت صبر تھی اور آپؑ اسی اسلام کو برقرار رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے پر مامور تھے تاکہ لوگ زمانہ جاہلیت کی طرف واپس نہ پلٹ جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے