فقیہ عالی قدر اور مایہ ناز محقق آیت اللہ سید علی حسینی میلانی (مد ظلہ العالی)کی سوانح حیات

فقیہ عالی قدر علامہ روز گار جناب آیت اللہ سید علی حسینی میلانی رمضان کے مہینے ۱۳۶۷؁ھج ق کے مطابق ۱۳۷۲شمسی نجف اشرف میں ایک علمی، اصیل اور علم و تقوی میں مشہور خاندان میں پیدا ہو ئے ۔

• پاکیزہ افراد کی ذریت

ان کے والد علامہ آیت اللہ سید نور الدین میلانی، آیت اللہ العظمی میلانی کے بڑے بیٹے ہیں جو ۱۴شوال ۱۳۲۶؁ھج کو نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور علوم الہی کے دروس آقا سید زین العابدین کا شانی ، آقا حسن طباطبائی قمی ، شیخ محمد اردبیلی ، شیخ علی محمد بروجردی اپنے والد بزر گوار آقا ی سید ابوالقاسم خوئی جیسے عتبات عالیات کے نامور اور مشہور اکابر سے حاصل کئے اور اپنی بنیادوں کو مضبوط کیا ۔حرم سید الشہدا ء کے امام آقا سید نورالدین تھے آپ خصوصی احتمام کرتے باالخصوص اجتماعی مسائل اور لوگوں کی حاجت روائی سے متعلق اسی وجہ سے کربلا کے اطراف میں زبردست محبوبیت اور مقبولیت رکھتے تھے ، انہوں نے سیاسی مسائل میں اہم اہم اقدامات کئے ہیں ۔جیسے کشمیر کی آزادی کےلئے بار بار اقوام متحدہ میں ٹیلیفون کیا اور اسرائیل پر چار زبانوں میں اعتراض کئے اور سیاسی محفلوں اور عمومی توجہ کا مرکز بنے ۔انہوں نے مختلف اسلامی ممالک کا سفر کر کے وہاں کے لوگوں کی خاطر خواہ خدمات انجام دیں ،ان کے باقیات الصالحات میں سے اہم ترین اثر کربلا ئے معلی میں سید الشہداء لائبریری کا قیام ہے ۔سید نورالدین حسینی میلانی ۱۴۲۵؁ھج کو دار فانی کو خدا حافظ کہا اور آپ کا جنازہ قم مقدسہ کے شیخیان قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے ۔آیت اللہ سید علی حسینی میلانی کی والدہ گرامی بھی حجۃالاسلام والمسلمین سید حسین رضوی تبریزی نجفی (وفات ۱۳۵۷ھج) کی بیٹی ہیں، ان کے دادا آیت اللہ العظمی سید علی رضوی تبریزی تھے۔ یہ خاتون کافی پر ہیز گار ، متھمد اخلاقی لحاظ سے ممتاز فرد تھیں کہ ۱۳۵۷؁ھج کو نجف ا شرف میں دار فانی سے دار ویرانی کی طرف روانہ ہو گئے ۔ اور امام علی ؑ کے صحن مطہر میں دفن کر دئیے گئے ۔

آپ کے دادا

آیت اللہ السید علی حسینی میلانی کے جد بزرگوار آیت اللہ العظمی سید محمد ہادی میلانی شیعوں کے عالی قدر مرجع تھے جن کی سوانح حیا ت اور علمی، ثقافتی اور سیاسی زندگی گلشن ابرار میں ذکر ہوئی ہے ۔
علامہ سید علی حسینی میلانی اپنے آباؤ اجداد اور با فضیلت خاندان کا اس طرح تعارف کرتے تھے :
ہم میلانی خانوادہ کا خاندان تبریز کے قریب ایک میلان قصبہ کی طرف منسوب ہے، تقریباً ۲۵ سال پہلے وہاں کے لوگوں نے دیکھا کہ اس دیار میں اولاد پیغمبر سے کوئی سید نہیں ہے تو ان لو گوں نے اس علاقہ کو وجود سادات سے بابرکت بنانے کے لیے اس موضوع کو علمائے تبریز کے درمیان رکھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حجاج حج کے ایام میں سادات مدینہ کے رئیس سے درخواست کریں کہ وہ لوگ اپنے ہمراہ کسی سید کو اپنے وطن لے آئیں، سادات مدینہ کے سید علی اکبر اور سید حسین نامی دو افراد کہ دونوں بھائی ہی تھے نے عوام اور علماء کی درخواست کی مثبت جواب دیا اور ان کے ہمراہ آگئے اور اس علاقہ میں آکر مقیم ہو گئے، سید علی اکبر ہمارے جد اور مورث اعلی ہیں، سید علی اکبر کے سید احمد نامی پوتے ہیں جو دینی علوم حاصل کرنے کی غرض سے نجف اشرف میں مقیم ہو گئے اور وہ صاحب جواہر کے شاگرد تھے ۔ان کے فرزند سید جعفر حوزہ علمیہ نجف اشرف کے افاضل میں سے تھے اور اپنے زمانہ کے عالی قدر مرجع اور عالم آیت اللہ العظمی شیخ محمد حسن مامقانی کہ دامادی کا شرف ملا کہ میرے جد آیت اللہ العظمی سید محمد ہادی میلانی ان بزرگوار کے داماد اور اپنے ماموں آیت اللہ العظمی شیخ عبد اللہ مامقانی کے داماد ہیں ۔لیکن نا چیز ماں کی طرف سے بھی علم و تقوی خاندان سے منسوب ہے کہ ایک پر ہیز گار، اہل عبادت،شب زندہ دار اور اخلاقی لحاظ سے ممتاز خاتون تھیں ۔علامہ سید حسن رضوی کی بیٹی ہیں جن کا ۱۳۷۵؁ھج ق کو نجف میں انتقال ہو گیا ۔ اور امام علی ؑ کے صحن میں مدفون ہیں ۔آیت اللہ العظمی سید علی رضوی کے فرزند سید حسین داماد کے نام سے ملقب ہیں ،کیونکہ وہ آیت اللہ العظمی شیخ محمد حسن مامکانی کے داماد ہیں، یہ خاتون ، بزرگ عالم دین آیت اللہ العظمی فاضل شربیانی کے فرزند علامہ شیخ حسن کی بیٹی ہیں جو نجف اشرف میں شیعہ امامیہ کے اکابر علما میں شمار ہو تے تھے ۔میری دادی بھی آیت اللہ العظمی شیخ محمد حسن مامقانی رہ کے فرزند آیت اللہ شیخ عبداللہ مامکانی کی بیٹی ہیں ۔
لہذا نا چیز کا ماں اور باپ دونوں کی طرف سے آیت اللہ العظمی حاج شیخ محمد حسن مامقانی رشتہ ہوتا ہے ۔

تعلیم اور اساتذہ

علامہ بزرگوار آیت للہ حاج سید علی حسینی میلانی نے اپنا تعلیم و تر بیت کا دورہ حوزہ علمیہ کربلا اور نجف اشرف میں گذارا، ان کی عمر ابھی دس سال کی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے خانوادہ کے ساتھ نجف اشرف کو ترک کر کے کربلاء معلی آگئے اور حضرت سید الشہداء کے جوار میں مقیم ہو گئے اور اس شہر میں اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور کربلا کے نامور اور مایہ نازعلماء اور اساتذہ سے کسب فیض کیا کہ جناب نے ہجرت کرنے کی علت اور تعلیمی مرحلوں کو طے کر نے اور اپنے گرانقدر اساتذہ کے بارے میں اس طرح وضاحت کی ہے :’’ میری عمر دس سال سے کم تھی کہ مرے دادا آیت اللہ العظمی سید محمد ہادی میلانی آیت اللہ العظمی حاج آقا حسین طباطبائی قمی کی دعوت پر کربلا منتقل ہو گئے ، مرحوم آقا حسین قمی مسجد گوہر شاد قیام کے رہبر تھے کہ اس واقعہ کے بعد رضا خان کے حکم سے ایران سے جلا وطن کر دئیے گئے ۔جب یہ کربلا میں مقیم ہوئے تو کربلا کے حوزہ علمیہ کو پھر سے آباد کر نے کے لئے نجف لے کچھ علماء کو دعوت دی کہ انہی میں میرے ایک جد مرحوم بھی تھے ۔میرے دادا کے ہجرت کر جانے کی وجہ سے ہمارا پورا خانوادہ بھی کربلا آگئے اور جب ہم لوگ کر بلا آگئے تو اپنی تعلیمات اس شہر میں شروع اور ہمارے اکابر اساتذہ کہ اکثر ہمارے جد کے شاگرد ہوں گے ۔عربی ادب اور منطق آیت اللہ سید مر تضی طباطبائی حائری سے پڑھی ،لیکن معالم اور معانی و بیان حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ عبد الحسین بیضائی سے جو میرے دادا کے شاگرد تھے اور لمعہ حجۃالاسلام و المسلمین آقا سید محسن جلالی کشمیری سے پڑھی اور رسائل اور مکاسب کا کچھ حصہ حجۃ الاسلام آقا شیخ محمد صدقی مازندرانی سے پڑھا ۔اس کے بعد تعلیمی سلام کو آگے بڑھانے کے لیے دوبارہ نجف اشرف آگئے اور رسائل و مکاسب کے دیگر باقی ماندہ حصہ کو آیت اللہ شیخ مجتبیٰ لنکرانی سے پڑھا اس کے بعد اپنے دادا کی خواہش پر مشہد مقدس چلے آئے اور کفایہ آیۃ اللہ عندلیب سبزواری جو میرے دادا کے شاگرد تھے ،کی خدمت میں پڑھی ۔‘‘
آیت اللہ سید علی حسینی میلانی نے اپنی ایران ہجرت کی کیفیت اور مشہد مقدس اور قم میں تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے : میرے دادا مرحوم آیت اللہ العظمی میلانی ۱۳۷۳؁ ھج ق کو امام رضا ؑ کی زیارت کی غرض سے ایران آئے اور علماء کے کافی اصرار پر مشہد مقدس میں مقیم ہو گئے، میرے والد کو خط لکھ کر ان سے درخواست کی کہ فلاں (ناچیز) کو مشہد بھیج دیں تاکہ درس پڑھنے کے ساتھ ساتھ میری دیگر کاموں میں مدد کریں لہٰذا ناچیز تقریباً ۱۳۵۰؁شمسی کو مشہد مقدس آ گیا اور ساڑھے ۳/ سال اپنے جد سے کسب فیض کیا یہاں تک یہ مریض ہو گئے اور درس تعطیل ہو گیا ۔اس کی رحلت کے بعد ۱۳۵۴؁ شمسی کو تعلیمی سلسلہ آگے بڑھانے کی غرض سے قم آ گیا ۔

• نامور اساتذہ :

آیت اللہ سید علی حسینی میلانی اعلیٰ تعلیمات کی تکمیل اور علمی و معنوی ذخیرہ شدہ افادہ اور استفادہ کی غرض سے کریمہ اہلبیت ؑ حضرت معصومہ ؑ کے دیار کی جانب روانہ ہو گئے اور نامور اساتذہ کی خدمت میں زانو تلمذ تہہ کیا اور ان کے علم سے کافی فیض حاصل کیا ۔ان کے نامور اساتذہ کے اسماء درج ذیل ہیں :

۱)۔ حاج سید محمد رضا موسوی گلپائگانی (وفات ۱۴۱۴؁ ھج ق ) فقہ

میں آیت اللہ میلانی ان بزرگ استاد کے درس فقہ میں شریک ہوئے اور ان کے دروس کو عربی زبان میں لکھا کہ ان کے استاد کے حکم سے کچھ جلدیں چھپ کر منظر عام پر آئیں کہ اس سلسلہ میں انہوں نے اس طرح کہا :جب میں آیۃ اللہ العظمی گلپائگانی کے درس میں گیا تھا تو اس وقت کتاب حج کا درس فرما رہے تھے۔ اس کے بعد کتاب بیع اور میں ان کے درسی مطالب کو اسی نشست میں عربی میں لکھ لیتا تھا ۔یہاں تک کہ انہوں نے کلاس میں شاگردوں کے لکھے ہوئے دروس کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو میں نے بھی اپنا جزوہ ان کی خدمت میں ارسال کر دیا ۔پھر کچھ دنوں بعد ان کے فرزند مرحوم حجۃ الاسلام آقای مہدی نے مجھ سے کہا کہ آقا کو تم سے کام ہے ۔اس وقت میں جوان طالب علم تھا، میں نے کہا : لیکن مجھے آقا سے کوئی کام نہیں ہے ۔انہوں نے دوبارہ اصرار کرتے ہوئے کہا :تمہارا جزوہ آقا کو پسند آیا ہے اور وہ اس سلسلہ میں تم سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے قبول کر لیا اور ان کے گھر گیا، پتہ چلا کہ ان کی خدمت میں بہت ساری کاپیاں دی گئی تھیں اور انہوں نے سب کا مطالعہ کیا ۔جیسے ہی مجھے دیکھا میرا نام پوچھا میں نے اپنا تعارف کرایا تو کافی خوش ہوئے اور شکوہ کیا کہ تم نے پہلے کیوں نہیں اپنا تعارف کرایا، خلاصہ انہوں نے کہا:تمہارا یہ جزوہ بہت اچھا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم اس سلسلہ کو جاری رکھو اور ہر ہفتہ مجھے دکھا دیا کرو، اس وقت انہوں نے مجھ ناچیز کی تشویق کے لئے اچھا انعام دیا، میں بھی تسلسل کے ساتھ ان کے مطالب کو لکھتا رہا اور انہیں دیتا رہا کہ ان کے حکم سے کتاب بیع کی پہلی جلد چھپ گئی ۔اس کے بعد انقلاب شروع ہو گیا تو ایک سال تک دروس تعطیل رہے پھر انقلاب آنے کے بعد انہوں نے کہا : اس وقت ہماری حکومت کو قاضی اور منصف کی ضرورت ہے لہٰذا ہم قضا اور شہادت کا درس شروع کریں گے ۔
میں نے بھی ان کے دروس کو لکھا ۔پھر ان کے حکم سے ان کی تقریظ کے ساتھ ۳/ جلدیں چھپ کر منظر عام پر آئیں۔ وہ اپنے عالی قدر استاد کے بارے میں کہتے ہیں :

۲)۔آیت اللہ العظمی میرزا کاظم تبریزی ایک عظیم فقیہ

اور اصولی تھے اور اگر منصفانہ قضاوت کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ حکمت اور فلسفہ میں بہت تجربہ کار اور ماہر تھے ۔

۳)۔حاج شیخ حسین وحید خراسانی (دام ظلہ ) فقہ و اصول

میں ،آیت اللہ میلانی آیۃ اللہ العظمی وحید خراسانی کے فقہ اور اصول میں ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں اور اپنے استاد کے حکم سے حوزہ علمیہ قم میں فقہ و اصول کا خارج کہنا شروع کیا ہے اور اپنے اصول فقہ کے درس خارج کی بنیاد اپنے استاد کے اصولی مطالب کو قرار دیا ہے اور کتاب ’’تحقیق الاصول ‘‘ کہ ان کی تالیف ہے، جو ان کے استاد کے درس پر مشتمل ہے اور اس کی ۶/ جلد چھپوا کر شائع کی ہے ۔

۴)۔ آیت اللہ العظمیٰ سید محمد حسینی روحانی قمی (وفات ۱۴۱۸ ھج ق ) اصول میں ۔

۵)۔ حاج شیخ مرتضیٰ حائری یزدی (وفات ۱۴۰۶ ھج ق ) فقہ میں ۔

آیت اللہ میلانی اپنی تعلیمات کے مراحل طے کرنے کے زمانہ ہی سے نامور اساتذہ اور بزرگوں کی توجہ اور احترام کا مرکز رہے ہیں ۔بالخصوص آیت اللہ گلپائگانی اور آیۃ اللہ العظمیٰ وحید خراسانی جیسے دو اساتذہ کی توجہ کا مرکز تھے اور ان دونوں بزرگوں کی درسی تقریر کو زیور تحریر سے آراستہ کیا ہے ۔

• خارج فقہ و اصول کی تدریس

ٓیت اللہ میلانی بھی حوزہ علمیہ کے سارے بزرگوں کی سیرت کی طرح تعلیم اور علم و دانش کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم کی تدریس میں بھی مشغول رہے اور جو کتاب بھی پڑھ لیتے تھے اس سے پہلے والی کتاب کی تدریس کرتے تھے اور اب بھی حوزہ علمیہ قم میں خارج فقہ و اصول پڑھاتے ہیں اور دسیوں طلاب اور فضلاء ان کے علمی مکتب میں اور ان کے علم کے بحر بیکراں سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کی تدریس کا اندازہ اپنے دادا کی طرح ہے یعنی سب سے پہلے وہ فقہ و اصول سے کتاب کی عبارت اور متن پڑھتے تھے۔ اس وقت مربوط آیات و روایات کی بہت ہی دلچسپ انداز میں دستہ بندی کرتے۔ اس کے بعد اقوال ذکر کرتے اور اس کی تحقیق و بررسی کے بعد نتیجہ نکالتے تھے ۔علامہ میلانی فقہ و اصول کے خارج کے رسمی دروس کہنے کے علاوہ اعتقادی دروس میں کہتے تھے اور جہاں یہ جناب اس فن میں مہارت رکھتے ہیں ،ہمیشہ ان کے مشتاق لوگ بھی تھے اور اس وقت یہ حوزہ علمیہ قم میں عقائد کے ماہر ممتاز اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اور اپنے مکتب میں دسیوں ماہرین کی تربیت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔

علمی، ثقافتی اور اجتماعی خدمات

آیۃ اللہ میلانی حوزہ علمیہ قم کے ایک زحمت کش عالم، محقق اور کامیاب فرد شمار ہوتے ہیں کہ انہوں نے فاضل طلاب کی تعلیم و تربیت کے علاوہ سادہ اور رواں عبارت لکھنے اور قلمی کام کرنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں اور گوناگوں میدانوں میں علمی، اجتماعی ،فکری اور ثقافتی بے شمار آثار اور خدمات کے مالک کہے جاتے ہیں کہ ان میں سے بعض کی فہرست درج ذیل ہے :

۱):قم میں مرکز الرسالہ کی بنیاد ڈالنا ؛

۲):اعتقادی تحقیقات کا مرکز قائم کرنا (مرکز الابحاث العقائدیہ)

۳):امامت کی ثقافتی بنیاد نامی ادارہ کی تاسیس ؛ امامت کی ثقافتی بنیاد نامی ادارہ نے اپنا رسمی طور پر کام ۱۳۸۷؁ سے آغاز کر دیا اور اس ادارہ کی وسیع سرگرمیاں چند شیعوں میں درج ذیل ہیں:

الف) ۔امامت اہلبیت ؑ کا تعلیمی شعبہ اور تخصصی مرکز
ب)۔تحقیقات امامت کا مرکز اور تحقیقی شعبہ
ج)۔ تبلیغی اور ثقافتی
د(۔ بین الاقوامی شعبہ اور امامت کی ثقافتی بنیاد کے دفاتر
ھ(۔ امامت سے متعلق تخصصی فصلنامہ

۴):حقائق اسلامی کے مرکز کی بنیاد ۔مرکز حقائق اسلامی تاسیس ہونے کے بعد ۱۳۸۲؁ میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں ۔

مرکز حقائق اسلامی کے مختلف شعبے ۔
الف): شعبہ نشر و اشاعت
حقائق اسلامی کا مرکز نشرو اشاعت اجازت حاصل کرنے کے بعد ۱۳۸۳ ؁ میں آیت اللہ سید علی حسینی میلانی (دام ظلہ ) کے آثار ،ان کے ترجمہ ، تحقیق کی نشر و اشاعت اور جناب کی تالیفات کی تدوین کی غرض سے چھاپ کر بک اسٹال اور کتاب فروشی کے مراکز میں تقسیم کر کے اپنی سرگرمی کا آغاز کیا ۔
ج) سائٹ
د) مرکز کی دیگر سرگرمیاں
•اعتقادی شبہوں کا جواب دینے کے لئے مبلغین کی تربیت ۔
•علماء اہلسنت کے سوالوں کا جواب دینے کے لئے ان سے ملاقات کرنا ۔
•امامت اور اعتقاد کے دروس کا علمی جلسہ منعقد کرنا
•یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ اور حوزہ علمیہ کے طلاب کی درخواست پر عمومی ملاقات اور جلسوں کا انعقاد کرنا۔
آیت اللہ حسینی میلانی، قوم کے خدمت گزار ،خوش اخلاق حوزہ علمیہ قم میں علم کے مالک اور علمی میدان میں کافی زحمت کش شمار ہوتے ہیں کہ انہوں نے اب تک کلامی، اعتقادی، فقہی اور اصولی مباحث کے ۱۰۰ / سے زیادہ عناوین پر قلم فرمائی کی ہے اور اسے زیور طبع سے آراستہ کیا ہے ۔اسی طرح آیت اللہ میلانی نے علمی ،ثقافتی اور اجتماعی سرگرمیوں کے علاوہ امامت اور ولایت سے متعلق تقریریں کی ہیں کہ اس کا مجموعی آڈیو اور ویڈیو سی ڈیز کی صورت میں ان اعتقادی مباحث کے شائقین کے اختیار میں ہیں ،کہ اب تک فارسی اور عربی دو زبانوں میں ۶۰۰/سے زیادہ سی ڈیز اور فیلم مکمل طور پر آمادہ ہے جو محققین کے لئے بہت ہی مفید ہو سکتی ہے ۔کنز الحقائق کا سافٹ ویئر ( گنجینہ حقائق ) بھی آیت اللہ میلانی کی تالیفات پر مشتمل عربی اور فارسی میں ایک مجموعہ ہے کہ کتاب کے متن میں جستجو کر کے محققین کے لئے مطالب کا حصول آسان بنا دیا ہے اور اس کا تیسرا نسخہ شہر یور ماہ ۱۳۹۳ ؁ میں منظر عام پر آچکا ہے۔ اسی طرح آیت اللہ میلانی سائٹ کے ذریعہ ایران سے باہر دنیا کے دیگر ممالک سے رابطہ رکھتے ہیں اور اب تک اس راہ سے ہزاروں سوالوں کے جوابات دے چکے ہیں ۔
خدا انہیں صحت اور طول عمر عطا کرنے کے ساتھ ساتھ خدمتِ دین کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کرے ۔
مرکز حقائق اسلامی